Ad

Saturday, May 30, 2009


رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کاطریقۂ کار
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شروع سے یہ اہتمام کیا تھا کہ جو نہی کوئی وحی اللہ کی طرف سے اترتی تھی اس کی خبر سارے مدینے میں پہنچ جاتی تھی ۔ اور لوگ دربار نبوت کی طرف دوڑ پڑتے تھے ۔ وحی لکھنے والے کاتب لکھنے کے لۓ پہنچ جاتے تھے۔ جو لوگ لکھنا پڑھنا نہیں جانتے تھے وہ زبانی یاد کر لیا کرتے تھے نبوی دور میں ہزاروں کی تعداد میں قرآن کے حافظ موجود تھے اس طرح وحی کا علم چند لوگوں تک محدود نہیں تھا۔ بلکہ ہر آدمی تک یہ پیغام پہنچایا جاتا تھا۔
عرب کے لوگ جاہل اور ان پڑھ ہونے کے باوجود آیتوں کے معنی سمجھ کر گمراہ نہیں ہوتے تھے ۔ کافر ایمان لے آتے تھے اور مؤمن اپنا ایمان تازہ کرتے تھے۔
لیکن ہم لوگوں میں سے کچھ کا خیال ہے کہ ہم آیتوں کے معنی سمجھ کر گمراہ ہو جائیں گے ۔ یہ خیال محض اسلام کے زوال کے زمانے کی پیداوار ہے جسے خواہ مخواہ مشہور کردیا گیا ہے۔صرف مدینے میں رہنے والے لوگ ہی وحی کا علم حاصل نہیں کرلیتے تھے بلکہ دور دراز علاقے کے لوگ بھی مدینے سے آنے والے لوگوں سے سن کر خود بھی آیتیں یاد کرلیتے تھے یہاں میں ایک مشہور عالم جناب محمد تقی عثمانی کی ایک کتاب سے ایک واقعہ نقل کروں گا:۔
"صحیح بخاری میں ایک واقعہ آتا ہے کہ ایک صحابی جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں چھوٹے بجے تھے اور مدینہ طیبہ سے لوگ بہت فاصلے پر رہتے تھے ۔ ان کا مدینہ طیبہ جا کر علم حاصل کرنا مشکل تھا۔ وہ خود اپنا واقعہ یان کرتے ہیں کہ میں روزانہ اس سڑک پر چلا جاتا تھا جس پر مدینہ طیبہ سے قافلے آتے تھے جب کوئی قافلہ آتا تو ان سے پوچھتا کہ آپ لوگ مدینے سے آرہے ہیں ؟ کیا آپ کو کوئی آیت یاد ہے؟ اس طرح ان قافلہ والوں سے سن سن کر ایک ایک دو دو آیتیں حاصل کیں اور الحمدللہ اس طرح میرے پاس قرآن کریم کا ایک ذخیرہ محفوظ ہوگیا۔"
اب آپ غور فرمائیں ۔ نہ تو رسول اللہ نے مکے یا مدینے کے ان پڑھ عربوں کو یہ کہا کہ یہ آیتیں صرف عالموں کے لۓ ہیں۔ تم ان سے گمراہ اوجاؤگے۔ اور نہ ہی مدینے سے آنے والے قافلے کے لوگوں نے اس بچے سے کیا کہ تم بچے ہو۔ یہ آیتیں عالموں کے لۓ ہیں تم ان سے گمراہ ہوجاؤگے۔ اس کے برعکس اللہ کے پیغام کی ہر آیت کو تمام لوگوں تک پہنچایا جاتا تھا ۔ اور اس کے نتیجے میں گمراہی نہیں بلکہ اسلام کی روشنی دور دور تک پھیلی۔
دیگر مذہبوں کے حالات
اسلام جو انقلاپ دنیا میں لایا اس میں سے ایک یہ ہے جس کا نمونہ آپ نے پچھلے صفحات میں دیکھا کہ مذہبی کتاب صرف عالموں کے لۓ نہیں بلکہ الہ کا پیغام بندے کے لۓ ہے ۔ زمانہ گزرنے کے ساتھ ساتھ اسلام کے تصورات میں جو زوال آیا اس کا ایک نتیجہ یہ ہے کہ عام آدمی قرآن کے معنی نہ پڑھے ۔ جو پوچھنا ہے عالم سے پوچھے۔
ہندوؤں میں تو پابندی کی حالت یہ تھی کہ برہمن کے علاوہ کوئی ہندو ان کی مذہبی کتاب وید کا پڑھنا تو کیا اس کو ہاتھ بھی نہیں لگا سکتا تھا اور نیچ قوم کے لوگ تو اس کو سن بھی نہیں سکتے تھے ۔ اگر کہیں بھی پڑھا جارہا ہو اور نیچ قوم کا آدمی اس کو سن لے تو اس کے کانوں میں سیسہ پگھلا کر ڈال دیا جاتا تھا ۔
عیسائیوں کے حالاتب بھی کچھ اسی طرح کے تھے ۔
کسی عام عیسائی کی انجیل تک پہنچ نہ تھی ۔ انجیل ایک خاص کمرے میں ایک میز پر رکھی ہوتی تھی اور اس پر اس طرح تالا لگایا جاتا تھا کہ کوئی وہاں سے اسے اٹھا نہ سکے۔ اس کی تصاویر امریکہ کے رسالے "لک" میں چھپ چکی ہیں ۔ اور پادریوں میں سے بھی صرف بڑے پادری اس کمرے میں جاسکتے تھے ۔ عام عیسائیوں کو ہر بات کی رہنمائی پادری سے لینی پڑتی تھی ۔ اور ظاہر ہے یہ مشکل کام تھا ۔ یہاں میں ایک امریکن کتاب سے مختصر سا حوالہ دینا چاہوں گا اس کتاب کے نام کا ترجمہ ہے :۔
"ہماری دنیا مختلف زبانوں میں "
یہ پرنٹس ہال نے امریکہ سے شائع کی ہے اس کا لطف اٹھائیے:۔
"صلیبی جنگوں میں عیسائیوں کو فتح تو حاصل نہیں ہوئی لیکن ایک نیا یورپ بنانے میں مدد ملی ۔ ۔ ۔ ۔ انہیں مسلمانوں کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا ۔ انہوں نے دیکھا کہ مسلمانوں میں رنگ اور نسل سے بالاتر ہو کر مکمل برابری ہے ۔ لیکن سب سے زیادہ حیران وہ اس بات سے ہوۓ کہ ہر آدمی کی قرآن تک رسائی ہے اور اللہ اور بندے کے درمیان کوئی مذہی ٹھیکیدار نہیں ہے ۔ یہ بات عیسائی خواب میں بھی نہیں دیکھ سکتے تھے ۔ صلیبی جنگوں سے واپس آک انہوں نے مارٹن لوتھر کی سرکردگی میں ایک الگ فرقہ بنایا ۔ "
آج کل کے عیسائی زیادہ تر اسی فرقے سے تعلق رکھتے ہیں ۔ یہ پروٹسٹنٹ یعنی احتجاج کرنے والا فرقہ کہلاتا ہے ۔ اس نے پرانے عیسائیوں سے قطع تعلق کر کے سب سے پہلے یہ کام کیا کہ کسی طریقے سے انجیل کا نسخہ حاصل کر کے اس کو چپوادیا اور اس کے ترجمے بھی بہت سی زبانوں میں کراۓ ۔ اس طرح آج ہر عیسائی انجیل پڑھ سکتا ہے ۔ ہماری بد قسمتی دیکھئے ۔ عیسائیوں نے ہمیں دیکھ کر ہمارا طریقہ اپنایا اور اپ ہم اپنا طریقہ چھوڑ کر ہندوؤں اور عیسائیوں کا طریقہ اختیار کر رہے ہیں ۔


(اقتباس از قرآن کی پکار باب نمبر دو مصنفہ مصباح الحق ۔ شائع کردہ احسن عباس)

No comments:

Post a Comment